کچھ دوست ایسے بھی ہوتے ہیں
بعض اوقات انسان کو وہاں سے چوٹ پہنچتی ہے جہاں کا اُس نے گمان بھی نہیں کیا ہوتا۔۔۔
میرے لیے محبوب ترین لوگوں میں دوست سرِ فہرست تھے۔۔۔
دوست جو مجھ سے جان بھی مانگتے تو میں دے دیتا۔۔۔۔
مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کبھی ایسا ہوا ہو کہ میرے دوستوں نے مجھے کوئی کام کہا ہو اور میں مجبوراً بھی منع کیا ہو۔۔۔
کبھی ایسا نہ ہوا کہ مجھ سے کچھ مانگا گیا اور میں نے انکار کیا۔۔۔
اپنی استطاعت سے بڑھ کر ہمیشہ اُن کے لیے کیا۔۔۔
لیکن ہوتا یہ تھا کہ تب بھی بار بار اپنے ہونے کا احساس دلانا پڑتا تھا اور اب بھی احساس دلانا پڑتا ہے۔۔۔😞
پہلے یہ ہوتا تھا کہ مجھے دوست کہا جاتا اور ظاہر کیا جاتا۔۔۔
لیکن اب تو وہ حالات بھی نہیں رہے۔۔۔ اب تو دوست سمجھا جاتا یے نہ کہا جاتا ہے۔۔۔
میں سمجھ نہیں پا رہا کہ دوستی جیسے رشتے میں بھی کہاں فرق آیا ۔۔۔میرے پیار میں ، خلوص میں ، ان کے لیے فکر میں کہاں فرق آیا۔۔۔جو مجھے بھلا دیا گیا 😢
میرے پاس تو اُن دوستوں کے متبادل میں کوئی اور دوست بھی نہیں تھا تو میرا متبادل کیسے مل گیا ان کو 🙁
پہلے ہمیشہ میں بات کرنا چاہتا تھا۔۔۔آج پہلی بار ایسا ہوا۔۔۔کہ دوست کی کال آنے پر تکلیف ہوئی۔۔۔اٹھانے کو دل ہی نہیں کیا۔۔۔لیکن رد کرنے کی عادت نہیں تو اٹھانی پڑی۔۔۔
لیکن اُس نے کسی کام سے کی تھی۔۔اور پوچھ کر بند کر دی ۔۔۔
اور میں ایک بار فر سے اسی سٹیج پر چلا گیا جہاں سے خود کو اسٹرونگ کرنا شروع کرتا ہوں۔۔۔🙁
اب تو دوستی پر سے بھی اعتبار اٹھ گیا یے ۔۔نہ جانے اور لوگ کتنے رنگ دکھائیں گے اپنے
0 Comments