بہادر لڑکا


بیان کیا جاتا ہے کہ، ایک بادشاہ کسی مُہلک بیماری میں مبتلا ہو گیا کافی دن علاج کرنے کے باوجود جب اسے آرام نہ آیا تو طبیبوں نے صلاح مشورہ کر کے کہا کہ اس بیماری کا علاج صرف انسان کے پِتّے سے کیا جاسکتا ہے اور وہ بھی ایسے انسان کے پِتے سے جس میں یہ یہ خاص نشانیاں ہوں، یہ کہہ کر حکیموں نے وہ نشانیاں بتائیں اور بادشاہ نے حکم دے دیا کہ شاہی پیادے سارے ملک میں پھر کر تلاش کریں اور جس شخص میں یہ نشانیاں ہوں اسے لے آئیں۔ پیادوں نے فوراً تلاش شروع کر دیا، خدا کا کرنا کیا ہوا کہ وہ ساری نشانیاں ایک غریب کسان کے بیٹے میں مل گئیں، پیادوں نے کسان کو ساری بات بتائی کہ بادشاہ کے علاج کے لئے تیرے بیٹے کے پتے کی ضرورت ہے۔ اسے ہمارے ساتھ بھیج دے اور اس کے بدلے جتنا چاہے روپیہ لے لے کسان بہت غریب تھا۔ ڈھیر سارا روپیہ ملنے کی بات سن کر وہ اس بات پر آمادہ ہو گیا کہ سپاہی اس کے بیٹے کو لے جائیں، چنانچہ وہ اسے بادشاہ کے پاس لے آئے، 

خاص نشانیوں والا لڑکا مل گیا تو اب قاضی سے پوچھا گیا کہ اسے قتل کر کے اس کے جسم سے پتا نکالنا جائز ہو گا یا نہیں! قاضی صاحب نے فتویٰ دے دیا کہ بادشاہ کی جان بچانے کے لئے ایک جان کو قربان کر دینا جائز ہے

قاضی کے فتوے کے بعد لڑے کو جلاّد کے حوالے کر دیا گیا کہ وہ اسے قتل کر کے اس کا پتا نکال لے لڑکا بالکل بے بس تھا۔ وہ اپنے قتل کی تیاریاں دیکھ رہا تھا اور خاموش تھا۔ زبان سے کچھ نہ کہہ سکتا تھا، لیکن جب جلاد تلوار لے کر اس کے سر پر کھڑا ہو گیا تو اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی، 

بادشاہ خود اس جگہ موجود تھا، اس نے اسے مسکراتے ہوئے دیکھا تو بہت حیران ہوا۔ جلاّد کے ہاتھ میں ننگی تلوار دیکھ کر تو بڑے بڑے بہادر خوف سے کانپنے لگتے ہیں، اس نے جلاّد کو ر کنے کا اشارہ کر کے لڑکے کو اپنے پاس بلایا اور اس سے پوچھا او لڑکے یہ تو بتا، اس وقت مسکرانے کا کون سا موقع تھا۔۔۔۔۔؟

لڑکے نے فوراً جواب دیا، حضور والا دنیا میں انسان کا سب سے بڑا سہارا اس کے ماں باپ ہوتے ہیں۔ لیکن میں نے دیکھا کہ میرے ماں باپ نے روپے کے لالچ میں مجھے حضور کے سپرد کر دیا۔ ماں باپ کے بعد دوسرا سہارا انصاف کرنے والا قاضی اور بادشاہ ہوتا ہے۔ کہ اگر کوئی ظالم کسی کو ستائے تو وہ اسے روکیں، لیکن قاضی نے بھی غلط فتویٰ دے دیا اور اور بادشاہ نے بھی میرے ساتھ انصاف نہ کیا، اب میرا آخری سہار خدا کی ذات تھی اور میں دیکھ رہا تھا کہ جلاّد ننگی تلوار لے کر میرے سرپر پہنچ گیا اور خدا کا انصاف بھی ظاہر نہیں ہو رہا، 

بس یہ بات سوچ کر مجھے ہنسی آ گئی

لڑکے کی یہ بات سنی تو بادشاہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، اس نے حکم دیا کہ لڑکے کو چھوڑ دو، ہم یہ بات پسند نہیں کرتے کہ ہماری جان بچانے کے لئے ایک بے گناہ کی جان لی جائے، 

لڑکے کو اُسی وقت چھوڑ دیا گیا، بادشاہ نے بہت محبت سے اسے اپنی گود میں بٹھا کر پیار کیا، اور قیمتی تحفے دے کر رخصت کیا، 

کہتے ہیں اسی وقت سے بادشاہ کی بیماری گَھٹنی شروع ہو گئی اور چند دن میں ہی وہ بالکل تندرست ہو گیا، 


،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، وضاحت ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

*اس حکایت میں حضرت سعدیؒ نے یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ ، جان خواہ بادشاہ کی ہو یا غریب کی، قدر و قیمت میں دونوں برابر ہیں،*

*نیز یہ کہ خود غرض بن کر دوسروں کی جانیں پامال کرنے والے دنیاوی لحاظ سے بھی اِتنے فائدے میں نہیں رہتے جس قدر نفع میں خلق خدا پر رحم کرنے والے رہتے ہیں*


●▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬●

                                        


*▄ ▂